تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
Poet: Sahir Ludhianvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ھے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ھے
میں نے کیوں پیار کیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ھے
تم جو یہ بھی نہ بتاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے ، میں نے تو محبت کی ھے
زندگی صرف محبت ھی نہیں کچھ اور بھی
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ھے
بھوک اور پیاس کی ماری ھوئی اس دنیا میں
عشق ھی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ھے
تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ھے تم کو
میں نے تم سے ھی نہیں سب سے محبت کی ھے
تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ھی محبت نہ سہی
میں تمھاری ھوں یہی میرے لئے کیا کم ھے
تم میرے ھو کے رھو یہ میری قسمت نہ سہی
اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






