تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
Poet: Sahir Ludhianvi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
میرے دل کی میرے جذبات کی قیمت کیا ھے
الجھے الجھے سے خیالات کی قیمت کیا ھے
میں نے کیوں پیار کیا تم نے نہ کیوں پیار کیا
ان پریشان سوالات کی قیمت کیا ھے
تم جو یہ بھی نہ بتاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے ، میں نے تو محبت کی ھے
زندگی صرف محبت ھی نہیں کچھ اور بھی
زلف و رخسار کی جنت نہیں کچھ اور بھی ھے
بھوک اور پیاس کی ماری ھوئی اس دنیا میں
عشق ھی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ھے
تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ھے تم کو
میں نے تم سے ھی نہیں سب سے محبت کی ھے
تم کو دنیا کے غم و درد سے فرصت نہ سہی
سب سے الفت سہی مجھ سے ھی محبت نہ سہی
میں تمھاری ھوں یہی میرے لئے کیا کم ھے
تم میرے ھو کے رھو یہ میری قسمت نہ سہی
اور بھی دل کو جلاؤ تو یہ حق ھے تم کو
میری بات اور ھے میں نے تو محبت کی ھے
تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ھے تم کو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






