تنگ آ چکے کشمکش زندگی سے ہم

Poet: Zahida Ali By: Zahida Ali, pakpattan sharif

تنگ آ چکے کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

لو آج ہم نے توڑ دیا رشتہ امید
لو اب کبھی گلہ نہ کریں گے کسی سے ہم

ابھریں گے ایک بار ابھی دل کے ولولے
گو دب گئے ہیں بار غم زندگی سے ہم

اگر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تیری بے بسی سے ہم

Rate it:
Views: 557
13 May, 2009
More Sad Poetry