تو میری روح کے ہر تار میں موتی کی طرح
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتو میری فکر کا محور میری منزل اے دوست
تو میری روح کا مسکن میرا حاصل اے دوست
تو میرا شوق و جنوں تو میرا دیوانہ پن
تو میرا قصر نفس تو ہی تو بیگانہ پن
تو میری روح کے ہر تار میں موتی کی طرح
تو میرے ذہن کے ادرک میں صوتی کی طرح
تو میرے جسم کا حصّہ کہ اگر چہ کچھ دور
تو میری عقل کا ہالا میری تفہیم کا نور
تیرا انداز تکلم میری تسکین جاں
تیرے چہرے پہ تبسم میرے دل کا ارماں
تیری آنکھوں کے دریچے میں اگر جا پاؤں
کتنی زخمی ہے میری روح یہ سمجھا پاؤں
کتنا آلودہ میرا ذہن ہے کتنا بسمل
کتنی افسردہ میری روح ہے کتنی گھائل
کتنے ہیں کرب چھپے میری ہنسی کے پیچھے
کتنے طوفان ہیں رکے میری خودی کے پیچھے
اک دو پل کی رفاقت ہی ہے سالوں کا سفر
خاک ہو جاؤں بھی تو دے مجھے نفرت کا زہر
تیری یادوں کا کفن اوڑھ کے بس سو جاؤں
تیری دنیا سے بہت دور کہیں کھو جاؤں
دور اتنا میں چلا جاؤں کے شاید کوئی
میری یادوں کو بھی چھو پاۓ نہ شاید کوئی
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






