تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachi(غربت کے ہاتھوں مجبور ماں سے یونیفارم کی فرمائش پوری نہ ہونے پر بچہ کی خودسوزی کے واقعہ پر)
میرے بچے تیرا اصرار میری آنکھوں پر
پر تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں سے
سلوٹیں حال ِ غریبی کی نہیں جا سکتی
تجھ کو یہ شوق کے اجلے سے نئے کپڑوں میں
روز ملبوس سویرے تو مدرسے جائے
تیری خواہش تھی کہ رنگوں سے مزین ہو لباس
تیری خواہش تو میرے چاند بجا تھی لیکن!
میں تجھے کیسے بتاتی کہ نئے کپڑوں کے
شوخ رنگوں میں تیری زرد سی رنگت بیٹا!
تیری حالت کا، غریبی کا پتہ دے دیگی
میں تھی مجبور، ڈر تھا کہ بتانے پہ تجھے
تیرے احساس جو کومل ہیں گلابوں کی طرح
ان حالات کی سختی سے کچل نہ جائیں!
تیری معصوم نگاہوں میں سجے سپنے سب
باعثِ حالِ غریبی مچل نہ جائیں!
دیکھو بچے میرے، اٹھ جائو، سنو بات میری!
میں نے سب بیچ کے رنگوں سے مزین کپڑے
تیری خواہش پہ خریدے ہیں بڑی چاہ کے ساتھ
مجھ سے کچھ بات کرو، دیکھ تو لو چاند میرے!
کیسے لگتے ہیں؟
بھلے ہیں یا برے لگتے ہیں؟
یہ جو کپڑے تیرے نازک سے بدن پر ہیں اب
تیرے خواہش کے مخالف ہیں، بہت سادہ ہیں
اٹھ بھی جائو نہ میری جان، بتائو مجھ کو،
تو نے کیوں اپنی تمنا کا گلہ گھوٹ لیا؟
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






