تِری یادوں کو مِٹاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiتِری یادوں کو مِٹاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
میں تُجھے یار بُھلاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
تِرے سَر تیرے دِیوانے کا لہُو جاۓ گا
جو ترے بام پہ آتے ہوۓ دَم توڑ گیا
یہ جو کل شام ہے اِک شخص کا اعلان ہُوا
بوجھ غُربَت کا اُٹھاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
ایسا لَگتا ہے کہ قاتِل ہے ہَواۓ کَربل
کوئ پِھر شام کو جاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
میرے بعد اہلِ محبت کے لَبوں پر ہو گا
تاب زَخموں کی نہ لاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
مِثل یہ زَخمی مُجاہد کی رہے گی زِندہ
پانی اوروں کو پِلاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
مرے قاتِل میری مَیت پہ یہ کیوں کہتے ہیں
غمِ اُلفت کو چُھپاتے ہوۓ دَم توڑ گیا
یہ سمجھ جاؤ کہ روح اُس میں ہے بُلھےشاہ کی
گر کوئ یار مَناتے ہوۓ دَم توڑ گیا
زِندگی گُزری ہے جِس شخص کی روتے بـاقرؔ
آج لوگوں کو ہَنساتے ہوۓ دَم توڑ گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






