دَردِ دِل کی دَوا کرے کوئ

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

دَردِ دِل کی دَوا کرے کوئ
رَسم اُلفت اَدا کرے کوئ

میں جو تنہائیوں کا محور ہوں
مُجھ سے بھی تو مِلا کرے کوئ

کُچھ تو دِل کا بھی بوجھ ہَلکا ہو
دَرد میرے سُنا کرے کوئ

ٹُوٹے دِل سے صَدا نکلتی ہے
مُجھ کو اَپنا کہا کرے کوئ

یہ گُہَر کیوں زمیں پہ ضائع ہوں
میرے آنسُو چُنا کرے کوئ

آؤ ہَم پِھر سے ایک ہو جائیں
ہَم کو پِھر سے جُدا کرے کوئ

کاش ایسا نِظام رائج ہو
مَرتے دَم تک وَفا کرے کوئ

بُھوکے بَچوں پہ کیا گُزرتی ہے
جا کے ماں سے پَتا کرے کوئ

ہے یہ آدابِ میکدہ باقرؔ
شور و غُل نہ بَپا کرے کوئ
 

Rate it:
Views: 377
12 Feb, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL