تڑپ

Poet: شبنم فردوس By: Shabnam Firdaus, Patna, India

 کبھی دیکھا ہے تم نے
ساحل پر کھڑے ہو کر
کیسا انوکھا رشتہ ہے
ساحل اور سمندر کا
ساحل کی تڑپ تم نے
کبھی محسوس کی ہے کیا
سمندر میں سمانے کو
کیسے بےتاب ہوتا ہے
کیسے منتظر رہتا ہے
کہ اٹھیں موجیں سمندر میں
اور کوئی لہر آئے
بھگوئے ریت کو اسکی
کچھ سنگ سنگ بھی لے جانے
ساحل اور سمندر کا
وصل یہ کچھ لمحوں کا
ساحل کی تشنگی
ایسے بجھاتا ہیں
کسی دشت کے راہی کو
اچانک بارش کی بوندیں
جیسے سرشار کرجائیں
تمہارا قرب پانے کو
پل پل میرے ہمدم
یونہی تڑپتی ہوں میں بھی
میرے تشنہ سارے جزبے
ہیں منتظر کب سے
کہ تیرا قرب لمحوں کا
مانند سمندر کے
مجھے سیراب کرجائے

Rate it:
Views: 814
04 Aug, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL