تھا خاص سارے جہاں میں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanتھا خاص سارے جہاں میں کہیں بھی عام نہ تھا
جو درد مجھ کو ملا اس کا کوئی نام نہ تھا
کسی کی یاد میں سڑکوں پہ گھومنا شب بھر
مجھے تو اس کے سوا اور کوئی کام نہ تھا
مرے پہنچتے ہی میخانہ ہو گیا خالی
کیا دل بہلتا کہ باقی تو ایک جام نہ تھا
ہوا کی طرح مسافر رہے ہیں دنیا میں
سفر نصیب تھا اپنا کہیں قیام نہ تھا
میں اس کی میل کو پڑھ کے بھی بےسکون رہا
بہت سے شکوے لکھے تھے پر اک سلام نہ تھا
وہ مجھ کو دل میں سدا ہی برا سمجھتا رہا
مرے خلوص میں گرچہ کوئی کلام نہ تھا
میں در بدر و بڑا بے سکون ہوں لیکن
مجھے تو اپنے بھی گھر میں ملا آرام نہ تھا
جو دل سے نکلے وہی شعر آج زندہ ہیں
کہے جو کہنے کی خاطر انھیں دوام نہ تھا
مرا شریک سفر ہو کے بھی سدا اس نے
دیا جو دل میں مجھے وہ مرا مقام نہ تھا
امیر ہوتے بھی کیسے کہ شاعری زاہد
ہنر تھا پاس مگر اس کا کوئی دام نہ تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






