تہمت لگائی ہے لگا نے دو دیانَت تھوڑی ہے
Poet: زاھید By: زاھید, karachiتہمت لگائی ہے لگا نے دو دیانَت تھوڑی ہے
وہ جھوٹ ہے اور جھوٹ میں ہوتی صداقَت تھوڑی ہے
اس میں کئی اور بھی مقاصدہیں چھپے ہو ئے ترے
دعویٰ ترا رستہ دکھانے کا عنایت تھوڑی ہے
تم سن سکو تومیں بیاں کردوں حقائق سب یہاں
سچ بول دوں سچ بولنا کوئی بغاوت تھوڑی ہے
جو بڑ ھے یا گر جو گھٹے تو پھر نہیں وہ سچ رہے
ہاں جھوٹ بڑ ھے یا گھَٹے اس کی ضمانَت تھوڑی ہے
سچ نفع یا نقصان اپنا تول کر مت بول تو
یہ سچ تمہارے باپ کی کوئی تجارَت تھوڑی ہے
احساس جن کو ہے نہیں سچ جھوٹ کا اپنے تو پھر
ان کو چلو میں ڈوبنے پربھی ندا مَت تھوڑی ہے
تم دھوکہ دے کر خو ش مت ہو دھوکہ واپس پلٹے گا
یہ دھوکہ آخر دھوکہ ہے کوئی کرامَت تھوڑی ہے
ہم آپ جیسا سوچ تے تھے پر وہاں ہے کچھ نہیں
ہم کو ملی یہ آج بھی سچی قیادَت تھوڑی ہے
تم دوسروں کی مت سنا وہ تو پتھر ہیں پوجتے
حالات کی ہر ایک کو اتنی بصارَت تھوڑی ہے
ناراض مت ہو ہم سے تم اے بے خبر کچھ تو سمجھ
جو جانتے ہیں سو کہا دل میں عداوَت تھوڑی ہے
اب کھو نے کا اور پانے کا ہے غم کسے تو مت ڈرا
تو کر گذر معلوم ہے تجھ میں شجاعَت تھوڑی ہے
آئینگے سچ بو لنے والے مِرے ہاں بعد بھی
سچ پولنے کی آخری میری جسارَت تھوڑی ہے
ہاں دھوکے کھا کر بھی یہ زاہد چپ رہا ہے کس قدر
سچ بات ہوں کہتا رہی ان میں عدالت تھوڑی ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






