تیرا راستہ کل آج دھُول قسمت میری
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamتیرا راستہ کل آج دھُول قسمت میری
جب موت سے محبت کا صِلا پاوُں گا
اب میری قسمت میں کہاں سچا پیار
کہہ کہ داستاں تمھیں رولا جاوُں گا
جدھر دیکھو گے سایہ میرا ہی ہو گا
جب راکھ اِسی ہوا میں ملا جاوُں گا
میں جب آنسو بن آنکھوں میں آوں گا
دور ہی جب تم سے بہت چلا جاوُں گا
جب کبھی تم بلاوُ گی میں نہ آوں گا
دور ہی جب تم سے بہت چلا جاوُں گا
رہ جائیں گے تمہارے کاپنتے سرخ لب
میں لالی گالوں کی جو مٹا جاوُں گا
بیتاۓ تھے جو دو پل ساتھ محبت کے
بتا دو مجھے کہاں اُنہیں بھلا پاوُں گا
اب تو میں مجرم ہوں عشق کا اے ہمدم
کیا میں موت سے بہتر کوئ سزا پاوُں گا
ہر جگہ ہوں گے پیمانے الگ محفلوں میں
میں غم اے زماں میں ڈُوبا چلا جاوُں گا
دل دور کہیں دور چین او سکون سے
مسعود پھر کہاں گُل کھیلا پاوُں گا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






