یہ تو میری ماں ہے

Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham

یہ کون تھی
جس کے ہونٹوں کے چیتھڑوں پر
نیلاہٹ جم چکی تھی
ہر سانس سے عاری
جس کی آنکھیں لہو
رو رو کر
تھم چکی تھیں
جس کے چہرے کی یاسیت دیکھ کر
صحراوٴں کی پیاس
بھی منہ چھپاۓ
گرد زمانہ سےاٹے
جس کے گیسو
زندگی کی تھرتھراہٹ
تقدیر کی کشمکش کی طرح
اُلجھے ہوۓ ہیں
یہ ماں کس کی تھی
یہ ماں کون تھی
کچے سے گھر کے دروازوں
میں کبھی جس کی آنکھیں
اپنی ننھے مسعود کی
ہوا کرتی تھیں منتظر
اب آنے والوں
کی راہ تکتے تکتے یہ
شمعیں بھی گُل ہوئی ہیں
اب دہلیز کی کھوکھ
آہٹ کی اُمید ہے
بانجھ ہو چکی تھیں
یہ کون ہے جو گھر کے
اجاڑ صحن میں سپاٹ
آنکھیں سلے ہونٹ لیے
سو رہی ہے
ہاں
یہ تو میری ماں ہے
یہ تو میری ماں ہے

Rate it:
Views: 460
13 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL