تیرا شاعر یہ بے نام ہوجائے گا
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiشاعری جو مری روح کا ساز ہے
دل کی آواز ہے
میرا انجام ہے، میرا آغاز ہے
میری پہچان ہے
داستاں ہے مری، میرا عنوان ہے
شاعری، کہ میں جس کے بنا کچھ نہیں
میں بس الفاظ، ان کے سوا کچھ نہیں
نام کرتا ہوں تیرے میں یہ شاعری
تو نے لفظوں کا ساحر کہا تھا مجھے
ہے ترے نام اب میری جادو گری
تیری آنکھوں میں یہ خواب کی بستیاں
اپنے لفظوں آباد کرلوں گا میں
آرزوئیں جگاتے ترے سُرخ لب
میری غزلوں کا سامان ہوجائیں گے
مسکراہٹ، ہنسی اور اُداسی تری
میری نظموں کا عنوان ہوجائیں گے
تیرے بالوں کی خوشبو، بدن کی مہک
اب سدا میرے لفظوں کو مہکائے گی
گیسوؤں کا ترے رنگ یہ رات سا
روشنائی یہیں سے ملے گی مجھے
تیرا چہرہ، تیری آنکھیں، تیرا بدن
سب صناعی یہیں سے ملے گی مجھے
اب سخن ہے مرا بس ترے واسطے
شعر کہتا رہوں گا میں تیرے لیے
سب کہیں گے ”تری شاعری بجھ گئی“
طنز سہتا رہوں گا میں تیرے لیے
تیرا شاعر ہوں بس، اور کسی کا نہیں
اب تو میں اپنی بھی زندگی کا نہیں
آج سے میرے الفاظ تیرے لیے
روح کے سارے سُر ساز تیرے لیے
دل سے اُٹھتی یہ آواز تیرے لیے
ایک دن تیرا شاعر یہ کھو جائے گا
اپنے الفاظ کرکے ترے نام سب
تیرا شاعر یہ بے نام ہوجائے گا
اس گھڑی تجھ کو میرا یقیں آئے گا
اس یقیں سے ترے دل کو بھر جاؤں گا
تیرے دل میں مہکنا مرا خواب ہے
اور تعبیر طے ہے، بکھر جاؤں گا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






