تیری آرزو کے چراغ تھے، کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے
Poet: Sain Naz Hussain Naz By: Najeeb Ur Rehman, Lahoreسرِنوک مژگاں یہ اشکِ خوں کبھی تھم گئے، کبھی ڈھل گئے
تیری آرزو کے چراغ تھے، کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے
کسی انجمن میں سکوں ملا نہ وہ میکدوں میں بہل سکے
رہے عمر ساری ہی بے سکوں، تیری بزم سے جو نکل گئے
مجھے راس آئی نہ زندگی، مجھے مل سکی نہ کبھی خوشی
مَیں رہینِ رنج و الم رہا، میرے روگ سینے میں پَل گئے
مَیں وہ بدنصیب ہوں دوستوں! نہیں پیار میرے نصیب میں
رہیں دل کی دل میں ہی حسرتیں، میرے دل میں ارماں مچل گئے
میرے ہیں نصیب میں گردشیں، میری زندگی میں سکوں نہیں
میرے خواب سارے بکھر گئے، میرے گیت آہوں میں ڈھل گئے
وہی سُن سکے نہ میری فغاں، میرے درد و غم، میری داستاں
دلِ سنگدل نہ پگھل سکا، میرے غم سے پتھر پگھل گئے
مجھے شاخِ ہستی سے توڑ کر، میرے رنگ و خوشبو نچوڑ کر
میرے مہرباں، میرے باغباں کفِ پا سے مجھ کو مَسل گئے
تیرے حُسن پہ جو پڑی نظر، ہوئے دو جہاں سے ہی بے خبر
تمہیں دیکھتے ہی تو مر مٹے، تمہیں دیکھتے ہی مچل گئے
مَیں محبتوں کا سفیر ہوں، مَیں مسرتوں کا فقیر ہوں
ملیں عمر بھر مجھے نفرتیں، کیوں نصیب میرے ہی جَل گئے
جنہیں اشک جان کے آنکھ سے، تُو نے بے رُخی سے گرا دیا
تیری بزم ناز سے چل دیئے، تیری زندگی سے نکل گئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






