تیری امید کے اسباب نظر آتے نہیں
Poet: رفیع By: رفیع, Abbottabadتیری امید کے اسباب نظر آتے نہیں
کیوں مجھے کوئی حسیں خواب نظر آتے نہیں
اتنا بھٹکا ہوں اذیت کے بیاباں میں کہ اب
کوئی بھی لمحۂ نایاب نظر آتے نہیں
کس قدر دھندلے ہیں مظلوم کی آہوں سے فلک
مہر و انجم ہوں کہ مہتاب نظر آتے نہیں
دست بردار نہیں رسم تعلق سے میں
پھر بھلا کیوں مجھے احباب نظر آتے نہیں
اتنی دوری ہے اب ان سے کہ مجھے اے شوقیؔ
چین سے ہیں کہ وہ بیتاب نظر آتے نہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






