تیرے دیے ہوئے زخموں کا حساب
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujratہم ہر روز تیرے دیے ہوئےزخموں کا حساب لکھتے ہیں
تیرے اک اک لفظ پے ہم پورا پورا نصاب لکھتے ہیں
کبھی شعر کبھی غزل لکھتے ہیں پھر کچھ حرف راہ جاتے ہیں
دِل میں خیال آتا ہے کیوں نہ تُجھ پہ کوئی نفیس کتاب لکھتے ہیں
کبھی لِکھنےہی لگتا ہوں جنجھوڑ دیتا ہے کوئی شخص پکڑکر گیرے بان میرا
کچھ خیال کرو کیا رشتہ ہےتمارامُجھ سےجومُجھ پہ باتیں بےحساب لکھتےہیں
اکژ کہہ دیتا ہوں نہ تُجھ پہ لکھتے ہیں غزل نہ تیرے خالات پہ لکھتے ہیں
ہم تو بَس تنہائی کے عالم میں خود پہ گزرےوقت کا عذاب لکھتے ہیں
ہاں مَگر یہ بات بھی سَچ ہے تُجھ سے میری زندگی کا کچھ حصہ جُھڑا ہے
کرکہ سوال خود سےاُسےبھی ہے محبت کہ نہیں پِھر خودہی اُس کا جواب لکھتے ہیں
پڑھ کر میری شعایری کبھی،خَبرنہیں تیرے مُنوں سےخرف نکلیں یاآنکھ سے آنسوں
جِس نے بھی پڑھیں مِیری غزلیں وہ روپڑاہم اِس قدرزندگی،مجسف،بےنقاب لکھتے ہیں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






