تیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
Poet: انم نقوی By: انم نقوی, Karachiتیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
تیری طلب رہی تُو ہمسفر نہیں ہوا
ترے انتظار میں کئی برسوں گزر گئے
تری دید کا اک پل بھی میسر نہیں ہوا
تم جیسے کی تلاش میں پھرتی رہی برسوں
ترے سوا کوئی نظروں کا محور نہیں ہوا
جسےدیکھ کےتھم جاتی ہیں وقت کی نبضیں
دنیا میں کوئی تجھ سا وہ گہر نہیں ہوا
تخلیق ہے آدم کی محبت کی خاک سے
چاہت نہ ہو دل میں ایسا بشر نہیں ہوا
جو کھیل ہی میں ہار دے جان کی بازی
وہ کبھی قسمت کا سکندر نہیں ہوا
غیروں کےقریں دیکھ کےتمکو,ہنسوں کیسے
اتنا بڑا ابھی میرا جگر نہیں ہوا
محبت کی مسافت کو سمجھےگابھلاکیا
جو راہِ محبت میں مسافر نہیں ہوا
وہ دل بھی زمانے میں کسی کام کا نہیں
وہ دل جو محبت کا سمندر نہیں ہوا
واقف ہو حالِ دل سے اور بات نہ کرے
الفت میں کوئی اتنا بھی پتھر نہیں ہوا
پوچھے گا بتا دوں گی میں ان کو حالِ دل
یادوں کا سلسلہ تو مختصر نہیں ہوا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






