یاد رہے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

ہمارا رُتبہ، تُمہارا مقام یاد رہے
خِرد سے دُور تُمہیں عقلِ خام یاد رہے

ادا کِیا تو ہے کِردار شاہ زادے کا
مگر غُلام ہو، ابنِ غُلام یاد رہے

ابھی ہیں شل مِرے بازُو سو ہاتھ کِھینچ لِیا
ضرُور لُوں گا مگر اِنتقام یاد رہے

نہِیں ابھی، تو تُمہیں جِس گھڑی ملے فُرصت
ہمارے ساتھ گُزارو گے شام یاد رہے

خمِیر میں ہے تُمہارے، بڑے بُھلکّڑ ہو
ابھی لِیا ہے جو ذِمّے تو کام یاد رہے

جو اپنے آپ کو شُعلہ بیاں بتاتے تھے
سو دی ہے اُن کی زباں کو لگام یاد رہے

بِچھڑ تو جانا ہے اِتنا گُمان رہتا ہے
لبوں کی مُہر، دِلوں کا پیام یاد رہے

یہ مُعجزہ بھی کوئی دِن تو دیکھنے کو مِلے
ہمارا ذِکر تُمہیں صُبح و شام یاد رہے

بجا کہ زیر کِیا تُم نے اپنے دُشمن کو
سنبھل سنبھل کے رکھو اب بھی گام یاد رہے

نہ ہو کہ اور کہِیں دِن کا کھانا کھا بیٹھو
ہمارے ساتھ ہے کل اِہتمام یاد رہے

رشِید اُن کو کوئی بات یاد ہو کہ نہ ہو
مگر تُمہارا وہ جُھک کر سلام یاد رہے
 

Rate it:
Views: 320
18 Mar, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL