جب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATجب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
ہاں یہ وہی شخص ہے جس نے ہمیں رلایا تھا
نمی اور درد ان آنکھوں میں بڑھتے دیکھ زرا
خلوص آفریں! کیا اسلیے ہمیں ہنسایا تھا..؟
جب کہہ گیا تھا ہمیں چند لمحے انتظار کا تو
اس کے بعد کسی نے...... وقت نہیں بتایا تھا؟
ہم تیرے بعد کھڑے.... تنہائیوں میں شرمندہ
بس یہی سوچتے ہیں.... "آخر وہ کیوں آیا تھا؟"
ہم قفس توڑ کر چلے آے تھے..... صدا پر تیری
خود لوٹنا ہی تھا..... تو ہمیں پھر کیوں بلایا تھا
یہ ہماری خشک خاک، کسی اور راہ کا غبار تھی
وہ تیرا عشق تھا ..... جو ہمیں .. یہاں پہ لایا تھا
تو جانتا تھا تعبیر اس کی کبھی نہیں ممکن
ہم نادانوں کو پھر .... یہی خواب کیوں دکھایا تھا
اندھیرے بڑھا رہے ہیں اضطراب.... میری چندا
لوٹ آ.. دیکھا ہم نے اتنا تو نہیں ستایا تھا؟
ہم مسافر وہ جو دن رات سفر میں رہتے تھے
ہیں آج... اب بھی وہیں.... تو نے جدھر گرایا تھا
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






