جب بھی ملتے ہیں وہ
Poet: Siraj aalam Akolvi By: Siraj aalam, akola maharashtraجب بھی ملتے ہیں وہ جینے کی دعا دیتے ہیں
مجھ کو دشمن بھی سلیقے سے سزا دیتے ہیں
تو نہیں تو نہ سہی دل کو جلا کر اکثر
تیری یادوں کے چراغوں کو زِیا دیتے ہیں
تیرے رخسار پے الجھے ہوئے گیسوں جاناں
تیرے چہرے کی چمک اور بڑھا دیتے ہیں
بس بہت ہوچکی باتیں لب و رخسار کی اب
آ غزل تجھ کو کوئی رنگ نیا دیتے ہیں
ان سے ملیے کے یہ بےدرد زمانے والے
غم کے بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
سارے عالم میں فسادات مچانے والے
پیار کی امن کی خوشیوں کی صدا دیتے ہیں
More Life Poetry






