جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
Poet: Hina By: Hina, karachiJab Tere Shehr Se Guzrta Hoon
Dil Bhi Karta Hai Yad Chup K Tumhein
Naam Leti Nahein Zuban Tera
Yeh Nahin Maloom Mujhe
Kis Muhle Main Hai Makaam Tera
Kon C Shak-E Gul Raksaan Hai
Rashk-Firdos Aashiyan Tera
Jane Kin Wadiyon Main Thehra Hai
Gard-E Husn Karwaan Tera
Kis Se Poochoga Khabar Teri
Kon Batai Ga Nishan Tera
Apni Ruswaiyon Se Darta Hoon
Jab Tere Shehr Se Guzrta Hoon
Haal-E Dil Bhi Na Keh Saka Gar Che
Tu Rahi Mudaton Qareeb Mere
Kuch Teri Azmaton Ka Dar Bhi Tha
Kuch Khayalat Thy Ajeeb Mere
Akhir Kaar Wo Ghari Ai
Khaer Qismat Meri Naseeb Mere
Ab Main Kion Tujh Se Piyar Karta Hoon
Jab Tere Shehr Se Guzrta Hoon
Wo Zamana Teri Mohbat Ka
Ek Bhooli Hui Kahani Hai
Tere Kooche Main Umar Bhar Na Gaye
Saari Duniya Ki Khaak Chani Hai
Lazate Qurb Ho K Zakhm-E Firaq Ho
Jo Bhi Hai Teri Mehrbani Hai
Kis Tamana Se Tujh Ko Chaha Tha
Kis Mohabat Se Haar Mani Hai
Apni Qismat Pe Naaz Karta Hoon
Jab Tere Shehar Se Guzrta Hoon
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






