جتنے درد کے قصے تیری ، باتوں میں رہتے ہیں
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiجتنے درد کے قصے تیری ، باتوں میں رہتے ہیں
اتنے درد تو ہم لئے ، ہاتھوں میں رہتے ہیں
بُھلا دینے پر غم یہ متفق نہیں ہوتے
ہمارے دل میں جزبے بھی ، زاتوں میں رہتے ہیں
مراسم اس سے اب بھی ہیں مگر ملتے ہیں اسطرح
جیسے اجنبی دو پہلی سی ، ملاقاتوں میں رہتے ہیں
الفتِ محبوب میں تر رہتے ہیں یوں عاشقوں کے دل
جیسے پرندے بھیگے سے ، برساتوں میں رہتے ہیں
وہ کیا جانے عذاب بدلتے موسموں کا
جو سائبانوں میں پلتے ہیں ، چھاتوں میں رہتے ہیں
جو چہرے دن کے اجالوں میں تابناک دِکھتے ہیں
دیکھ جاکر کبھی وہ کسطرح ، راتوں میں رہتے ہیں
تو ڈھونڈتا ہے صفتِ اسلاف جس جماعت میں راہب
وہ جماعت والے اب کئی ، جماعتوں میں رہتے ہیں
عالم میں جہاں دیکھو ، دِکھتے ہیں یہ تنہا
اگرچہ مسلمان براعظم ، ساتوں میں رہتے ہیں
تجھے تردد ہے کلام کے معتبر ہونے میں اخلاق
یہاں تو آلاتِ موسیقی بھی اب ، نعتوں میں رہتے ہیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






