زندہ رہنے کی دُعا دیتا ہے
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreزندہ رہنے کی دُعا دیتا ہے
ہر بار یہ ہی سزا دیتا ہے
گِلے رکھتا ہے سدا لبوں پہ
محبتیں سب بھُلا دیتا ہے
جب بھی آتا ہے سامنے میرے
ظالم مجھے رُلا دیتا ہے
لکھتا ضرور ہے نام میرا
لکھ لکھ کے مٹا دیتا ہے
دکھاتا ہے مجھے نفرت اپنی
نفرتیں دے کے جلا دیتا ہے
راتوں کو بھی سونے نہیں دیتا
سپنوں میں آ کے جگا دیتا ہے
ماتم کرواتا ہے آ دھی رات مجھ سے
گنہگار مجھے بنا دیتا ہے
زخم دیتا ہے سینے پہ میرے
پھر دے کے دُکھا دیتا ہے
اُمید لگاتا ہے ہر بار مجھے
پھر امید کا دیہ بُجھا دیتا ہے
ہوا پہ میرا گھر بناتا ہے
بنا کے میری اوقات دِکھا دیتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






