جدائ

Poet: (بختاور شہزادی(بلبل سفیر By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRAT

باندھ کے پتھر جدائی کا مجھے اڑا دیا
ہاتھوں میں ہاتھ تھما کے پھر تنہا کر دیا

پکار کر کہتے ہو لمبی عمر ہو تمھاری
درد بھی خوب دیا ,یہ ہنر بھی سکھا دیا

شور اتنا تھا خاموشی سنتا نہیں کوئی
ہم پکارے تھے یوں,کہ قبرستاں بنا دیا

اپنے درد سے وفا کی صورت میں وہ
زندگی سے بچھڑنے کی دعا دے گیا

مت چھیڑو اس بے وفا کے قصے
آنسو وفا کا تھا ,جو بن مول بہا دیا

تھما دیتے گر چاند ,تاروں کی تمنا کی ہوتی
کاش دل کے ساتھ روح کو بھی جدا کیا ہوتا

ابھی سازش سے فرصت نہیں تمہیں
میرے مرنے پہ آنے کا وعدہ ہی کیا ہوتا

Rate it:
Views: 1442
13 Mar, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL