جدائ
Poet: (بختاور شہزادی(بلبل سفیر By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATباندھ کے پتھر جدائی کا مجھے اڑا دیا
ہاتھوں میں ہاتھ تھما کے پھر تنہا کر دیا
پکار کر کہتے ہو لمبی عمر ہو تمھاری
درد بھی خوب دیا ,یہ ہنر بھی سکھا دیا
شور اتنا تھا خاموشی سنتا نہیں کوئی
ہم پکارے تھے یوں,کہ قبرستاں بنا دیا
اپنے درد سے وفا کی صورت میں وہ
زندگی سے بچھڑنے کی دعا دے گیا
مت چھیڑو اس بے وفا کے قصے
آنسو وفا کا تھا ,جو بن مول بہا دیا
تھما دیتے گر چاند ,تاروں کی تمنا کی ہوتی
کاش دل کے ساتھ روح کو بھی جدا کیا ہوتا
ابھی سازش سے فرصت نہیں تمہیں
میرے مرنے پہ آنے کا وعدہ ہی کیا ہوتا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






