جدا ہوں تم سے میری زندگی پریشاں ہے (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدا ہوں تم سے مری زندگی پریشاں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے
لپٹ کے تم سے میں رو لوں قریب آ جاؤ
ذرا سا چین ہو دل کو نصیب آ جاؤ
تمھاری ہو نہ سکی رو رہی ہوں میرے صنم
رہے گا ساتھ مرے عمر بھر یہی اک غم
بھلا کے تم کو کہاں مجھ کو جینا آ ساں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔
بچھڑ کے تم سے مری زندگی پریشاں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے
خبر نہ تھی کہ مرے خواب ٹوٹ جائیں گے
کبھی یہ وقت بھی آئے گا مل نہ پائیں گے
اندھیری رات کے آنگن میں کتنی وحشت ہے
میں پی رہا ہوں کہ پینا مری ضرورت ہے
یہ جام ہی تو مرے درد و غم کا درماں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدا ہوں تم سے مری زندگی پریشاں ہے
بس اب تو موت ہی آئے یہ میرا ارماں ہے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔
بچھڑ کے تم سے مری زندگی پریشاں ہے
رہے نہ کوئی بھی اب ہوش میرا ارماں ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






