زندگی کے اک دن سے منسوب

Poet: Gohar ali Dilsooz By: Gohar ali Dilsooz, Chitral(In karachi now)

سیاہی نصیت ہوگئ شبِ تار کی مانند
عجب طوفان لے ڈوبی قہر قہار کی مانند

سُنسان کردی عجب یک لخت خزان اکر
بستی ویران کردی اُجڑے دیار کی مانند

نہ تھا اگر دل میں وعدہء الفت نبھانے کا
جلایا کیوں میرے دل نمرود نار کی مانند

کیا ہے خون جیسے دنیا کے ارمانوں کا
اُڑا لے طوفان اُس سے شئے نا پائدار کی مانند

پچھتاکر زندگی بھر بھٹکتے گھومتے پھرے وہ
نہ پائے کسی بھی در اس وفا شعار کی مانند

بھول گئ تحفہ وہ بھلا کر قسمیں سبھی رسمیں
پہنایا تھا کسی نے کیا میرے مُقدس ہار کی مانند

پوشیدہ فریت تھی سراسر اس محبت میں
وجود کو مرے کاٹی اُس نے نیزہ و تلوار کی مانند

ہوجائے بے چین وہ یوں راتوں میری طرح
نہ ہو اس کو کبھی نصیب دلسوز دلدار کی مانند

Rate it:
Views: 621
02 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL