جنتی کوششیں کر سکتی تھی کر چکی ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aجنتی کوششیں کر سکتی تھی کر چکی ہوں
شاید میں ُاس سے اب ہار چکی ہوں
مجھے چھوڑ کر جو اک خواب کے پیچے بھاگ رہا ہے
میں ُاس کی خاطر اپنی ہر خوشی وار چکی ہوں
توڑ ہی دیا نہ تم میرا بھرم دیکھو
میں اب اپنے خوابوں کو مار چکی ہوں
مطلب کا ہے واسطہ تو تم نہیں تو اور سہی
میں خود کو سنا دل کی پکار چکی ہوں
کس قدر غرور تھا ُاسے اپنے ضبط پر
ُاس کے سامنے مرنے کا کر اصرار چکی ہوں
قسمت سے کھلا تھا وہ پھول اجڑے باغ میں
جیسے دے کر محبت کا اظہار کر چکی ہوں
جاؤ لیکن اب نہیں آنا تم میری طرف
اے راہے محبت تم پر چلنے سے انکار کر چکی ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






