میری مسکان کے لیے اور بشارت کیا ہو سکتی ہے
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadچاہت سے زیادہ اور چاہت کیا ہو سکتی ہے
محبت کی اس سے بڑھکر اور وضاحت کیا ہوسکتی ہے
چور چور ہو جاتی ہوں تجھ سے لڑ لڑ کر اسقدر
تیرے سامنے ٹکنے کی اور جسارت کیا ہو سکتی ہے
میں نے تو پہلے ہی اظہار پہ دل دے دیا جانم
تیرا دل جیتنے کی اور مہارت کیا ہو سکتی ہے
جب بھی دل جھوم اٹھا اداسی میں تیرے نام سے اٹھا
میری مسکان کے لیے اور بشارت کیا ہو سکتی ہے
میں چپ رہ کہ تیرا ہر ستم سہتی ہوں
محبت میں اور شرافت کیا ہو سکتی ہے
زمانہ دیکھتا ہے مجھے وحشی نظروں سے
میری آبرو پہ اور حقارت کیا ہو سکتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






