میری مسکان کے لیے اور بشارت کیا ہو سکتی ہے

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbad

چاہت سے زیادہ اور چاہت کیا ہو سکتی ہے
محبت کی اس سے بڑھکر اور وضاحت کیا ہوسکتی ہے

چور چور ہو جاتی ہوں تجھ سے لڑ لڑ کر اسقدر
تیرے سامنے ٹکنے کی اور جسارت کیا ہو سکتی ہے

میں نے تو پہلے ہی اظہار پہ دل دے دیا جانم
تیرا دل جیتنے کی اور مہارت کیا ہو سکتی ہے

جب بھی دل جھوم اٹھا اداسی میں تیرے نام سے اٹھا
میری مسکان کے لیے اور بشارت کیا ہو سکتی ہے

میں چپ رہ کہ تیرا ہر ستم سہتی ہوں
محبت میں اور شرافت کیا ہو سکتی ہے

زمانہ دیکھتا ہے مجھے وحشی نظروں سے
میری آبرو پہ اور حقارت کیا ہو سکتی ہے

Rate it:
Views: 564
22 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL