جو اُتر کے زینئہِ شام سے
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIجو اُتر کے زینئہِ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے ،مرے بام و دَر کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے !
وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں ، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے
وہ چراغِ جاں، کبھی جس کی لَو ، نہ کسی ہَوا سے نِگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسو سے ، اُسے چُپکے چُپکے بُجھا گئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا ، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بند گانِ نیاز ہیں، یہ تمام ہیں وہی لشکر ی !
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی، تو ترے حضور میں آگئے
تری بے رُخی کے دیار میں، میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہُوا
ترے آئنے کی تلاش میں ، مِرے خواب چہرا گنوا گئے
ترے وسوسوں کے فشار میں ، ترا شہرِ رنگ اُجڑ گیا
مری خواہشوں کے غُبار میں، مرے ماہ وسالِ وفا گئے!
وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے
مِری عُمر سے نہ سمٹ سکے، مِرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے، تری اِک نگاہ میں آگئے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






