جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے
Poet: محشر آفریدی By: عابد, Islamabadجو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے
یہ تم نے کیسا یقیں دلایا مغالطہ ختم ہو گیا ہے
زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے
نمک نہیں ہے ترے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے
گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب
مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ہو گیا ہے
وہ گفتگوؤں کے نرم چشمہ کہیں فزا میں ہی جم گئے ہیں
وہ سارے میسج وہ شاعری کا تبادلہ ختم ہو گیا ہے
کل ایک صدمہ پڑا تھا ہم پر کے جس نے دل کو ہلا دیا تھا
چلو کے سینے کا جائزہ لیں کہ زلزلہ ختم ہو گیا ہے
مرے تصور میں اتنی وسعت نہیں کے تیرا بدن سمائے
میں تجھ کو سوچوں تو ایسا لگتا ہے حافظہ ختم ہو گیا ہے
میں تجھ کو پا کر ہی مطمئن ہوں اب اور کوئی طلب نہیں ہے
جو آج تک تھا نصیب سے وہ مطالبہ ختم ہو گیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






