جہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadجہانِ سوز کی صدا ہونا اچھا لگا
میرےہونے سے نا ہونا اچھا لگا
لفظ کی صورت تیرے لب سے
میرے نام کا ادا ہونا اچھا لگا
حصولِ وصل کی راحت کے لئے
منزل نہ سہی راستہ ہونا اچھا لگا
زہے نصیب آج بھی میرے لئے
تیرے لب پہ دعا ہونا اچھا لگا
میری زیست کے ہر لمحے کا
تیری ذات پہ فدا ہونا اچھا لگا
اذیتیں اور بھی ہیں، دل میں مگر
بس اک درد تیرا ہونا اچھا لگا
تو نے کہہ جو دیا تھا ہنستے ہوئے
بے وفا ،تو بے وفا ہونا اچھا لگا
مشہور ہے چارہ گری اس کی
یہ سن کربے آسرا ہونا اچھا لگا
تاریک شب کی تنہائی میں
تیری یاد کا سلسلہ ہونا اچھا لگا
روز نیا عزم ، نیاجنونِ عہد ِ وفا
حسبِ معمول نہ نبھا ہونا اچھا لگا
عارضہ ء دل بڑھتا رہا، مگرتیری
الفت سے یابِ شفا ہونا اچھا لگا
کسی سُرمئی شام کی بارش میں
کھڑکی میں کھڑا ہونا اچھا لگا
دوگام چلنا بھی گراں ہوا مجھ پہ
تیری آنکھ میں سجاہونا اچھا لگا
مناتا ہے اِس ادا سے رضا وہ
کہ بات بے بات خفا ہونا اچھا لگا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






