اے آدم کے بیٹے اک بات بتا
Poet: roop zahra By: roop zahra, kirachiاے آدم کے بیٹے اک بات بتا
تیرے ظلموں کی انتہا ھے کیا
حوا کی مظلوم بیٹی پر
اتنے ستم تو ڈھاتا ھے
ذرہ سا بھی دل میں ترے
خوف خدا نہیں آتا ھے
عورت کو سمجہتا ھے پیر کی جوتی
تو اسی کی کوکھ سے جنما ھے
یے کیوں بھول جاتا ھے
عورت وفا کا پیکر پھر بھی
مقدر م اس کے رسوایئاں
تو بے وفائی کر کے بھی
پارسا کھلاتا ھے
کرتا ھے گھمنڈ مردانگی پر
بے جرم و خطا ستاتا ھے
کبھی گالی گلوچ کبھی مار پیٹ
کس کس طرح سے تو
عورت کا صبر آزماتا ھے
سہ کر ترے ظلم و ستم
تری ہی خاطر مسکراتی ھے
مانگتی ھے دعائیں پھر بھی تری سلامتی کی
ہونٹوں پہ اس کے پھر بھی
حرف شکایت نہ آتا ھے
بے شک تم ان کا لباس ھو
اور وہ تمھارا لباس ہیں
یہ لله پاک فرماتا ھے
مگر تو اپنے ہی لباس کو کر کہ
بے آبرو اتراتا ھے
تجھے احساس نھیں مگر جان لے
کہ یہ راستا تجھے جھنم کی طرف لے جاتا ھے۔۔۔۔۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






