حادثہ
Poet: Shabbir Rana By: Dr. Ghulam Shabbir Rana, Jhang City(Punjab--Pakistan)صباحت بے بضاعت کرنے والا
وہی ننگِ جہاں تھا،دشمنِ جاں بھی
جس کے شر سے آرزو بھی مات کھا کر رہ گئی
قتل حق و صداقت کرنے والا
چمن وقفِ ندامت کرنے والا
کرن تاریکیوں میں کھو گئی تھی
عزت اور آبرو قصہ پارینہ ہوا
وہ ناصف بقال
ہر لمحہ ستم پر آمادہ
اہلِ جہاں جس کو کہتے تھے بر ملا
مشکوک نسب کا کر گس زادہ
راسپوٹین قماش کا خانِ جاناں تھا وہ
مخنچو کے عرف سے دنیا اس کو پہچانتی ہے
اس کے عقوبت خانے میں
جو گزرے مہ وسال
نورتن اس کے سب کے سب ارزال
جینا ہوا محال
نیندیں اڑ گئیں کاہے کو پھر سونا تھا
حادثہ تو ہونا تھا
اپنی چشمِ پر نم کو
یوں لہو رونا تھا
مرجھا گئی چشم آخر کار
زندگی کی تہمت ہے
کس قدر اذیت ہے
ہاتھ سے یوں چھوٹا ہے
صبر کا دامن اب
روز وشب بلکتا ہوں
آج تک سسکتا ہوں
اپنی پتھرائی آنکھوں میں
رفتگاں کی یادوں کو
اب سموئے بیٹھا ہوں
زندگی کی راحت سے
ہاتھ دھوئے بیٹھا ہوں
آہ اے مخنچو تو کس قدر شقی نکلا
ضمیر، غیرت اور دانش سے
بالکل تو تہی نکلا
ایسے حادثے میری زندگی میں آئے ہیں
دل میں ایک حسرت ہے
جلد میں بھی یہ دیکھوں
اور دیکھے دنیا بھی
ساری خلقت ہی دنگ ہو جائے
سارے اجلاف زینہ ہستی سے اتر جائیں گے
اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے
زیست کا عرصہ
موذیوں پر جلد تنگ ہو جائے
قلزم ہستی کی متلاطم موجوں میں
زیست اس متفنی کی
لقمہ نہنگ ہو جائے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







