حال برباد جو ہوا ترے بعد
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالحال برباد جو ہوا ترے بعد
اپنے ہاتھوں کیا گیا ترے بعد
خشک و تر کی تمام خلقت سے
واسطہ ہی نہیں رکھا ترے بعد
عجب اک کشمکش رہی اندر
جیسے خُود سے بچھڑ گیا ترے بعد
کس کے حق میں زباں چلاتا پھر
کوئی خوش تھا کوئی خفا ترے بعد
تیرا ہونا بھی تھا عذاب مگر
رہے خود سے گریزپا ترے بعد
حوصلہ ہی کہاں ہے سُننے کا
کون کس سے تھا باوفا ترے بعد
دوزخِ دشتِ زندگانی میں
اِک قدم بھی نہیں چلا ترے بعد
ایسی بے ذوق تھی جدائی بھی
خُوں نہ رویا، نہ پھر ہنسا ترے بعد
جانے والے تُو جا، پہ لب دے جا
خود سے کرتا رہوں گِلہ ترے بعد
تھی وہ بے طور سرگزشتِ غم
سننے والا نہیں ملا ترے بعد
ہر بلا مجھ سے ٹل گئی میری
وہم تیرا نہیں ٹلا ترے بعد
اِک خطا ہو گئی تھی کاتب سے
ذکر تیرا مٹا دیا ترے بعد
اب کہاں وہ قفس، کہاں صیّاد
سب کو آزاد کر چکا ترے بعد
گر بچھڑنے کا غم نہیں ہوتا
کوئی ہوتا نہ دوسرا ترے بعد
دونوں عالم کی خاک چھانی تھی
تُو کہیں بھی نہیں ملا ترے بعد
عادتِ ترکِ مدّعا تھی وہی
پر کوئی مدعا نہ تھا ترے بعد
جس سے روشن ہے آسمانِ اُمید
بجھتا جاتا ہے وہ دِیا ترے بعد
آرزوئیں بھی ساتھ چھوڑ گئیں
دل ہی ویران ہو گیا ترے بعد
جیسے تیسے تجھے بُھلانا تھا
سو پیا میں الا بلا ترے بعد
تیرے غم کو لگائے سینے سے
کوئی اک تھا نہ جی سکا ترے بعد
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






