حسیں بے درد ہوں لیکن اُنھیں درماں کہا جائے
Poet: Wasim Khan Abid By: Wasim Khan Abid,حسیں بے درد ہوں لیکن اُنھیں درماں کہا جائے
نہ ہو محبوب تو دُنیا میں یارو! کیا جیا جائے
ہزاروں بُت یہی سب جان کر دل میں بسائے ہیں
کہ کوئی آئے پیغمبر اِسے کعبہ بناجائے
محبت شیفتگی کی حد سے یارو جب نکلتی ہے
کتابوں میں اُسے بھر کر کوئی قصہ کہاجائے
کروڑوں غم مچل جاتے ہیں تیرا تذکرہ سُن کر
یوں زائر صوفی کے دربار پر میلہ لگا جائے
عبث رٹنا کتابیں اور عبث ہیں تجربے کرنا
وہی تعلیم ہے آدم کو جو انساں بنا جائے
لٹیرے دیس کے دیکھے تو دل سے آہ یوں نکلی
اے عابد کاش کوئی اِن کو آئینہ دکھا جائے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






