حضرت انسان کی حقیقت
Poet: abdul hameed By: abdul hameed, gumbat kohat ھوس حرص داد کا غلام ھے انسان
شاعر کی بات اور ھے
مثل بھوک پیا س رمضان
شوگر کی بات اور ھے
فطرت انسا نی ھےبخل سے لبریز
رشتہ نا تا د وستی ھے قا ئم
زر کی بات اور ھے
مرغ سا لم بریانی و پلاو سے ہو شکم سیر
میزبان کے ہاں کچھ کھایا ہی نہیں
گھر کی بات اور ہے ھے
چپڑاسی سے پوچھ حال رعب داب صاھب بہادر
محترمہ سامنے ہو تو
ڈ ر کی بات اور ھے
حاضرھیں تمغۂ بہادری سجاۓ
صاحبان ممبران اسمبلی کے فورم پر
حقیقت میں میدان جنگ کے
منظر کی بات اور ھے
سب کچھ بنا نہ بن سکا انسان سے انسان
خادم اعلی صوفی و مسیحا و مدبر
اندر کی بات اور ہے
لغات میں کھو ۓ رھے الفاظ " دہشت گرد "
محقق مشرف کی ہیں سوغات
اوپر کی بات اور ھے
امن کی فاختہ ھے مر چکی دھماکے پہ دھماکے
نشانہ ہیں مسجد و مندرخانقاہ و جنازہ
دفتر کی بات اور ھے
جرم و سزا کا راج لا علاج
ھوں نواز یا نثار کیا صوفی کیا ولی
پیغمبر کی بات اور ھے
خوں خوں ھے دل وارث مقتول
عدم ھے آئیں ملک سے لفظ عدل
محشر کی بات اور ھے
داغ داغ ھے حمید
روح دل و جان ھر بشر
در و دیوار بھی غمزدہ ہیں
صبر کی بات اور ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






