خاموش رہے
Poet: Irshad Arshi Malik By: Irshad Arshi Malik,ہر سُو تھا انجانا ڈر خاموش رہے
شہر کے سارے دانش ور خاموش رہے
اپنی اپنی غرض و انا کے قیدی تھے
اس کارن سب اہلِ نظر خاموش رہے
سچ کہنا تو زہر پیالہ پینا تھا
سارے کر کے اگر مگر خاموش رہے
قوم پھنسی تھی ظلم و جہل کی دلدل میں
دڑ وٹ کر لیکن رہبر خاموش رہے
ظلم کے ساتھی گلیوں گلیوں دھاڑے ہیں
عدل کے سب ہمدرد مگر خاموش رہے
اپنے حق میں کوئی نہ آواز اُٹھی
ہمسائے اور بام و در خاموش رہے
حق کی خاطر کچھ نہ بولے گونگے لوگ
بہرے بھی کہلائے پر خاموش رہے
اپنے گھر کا صحن اٹا تھا لاشوں سے
پر قانون کے بازی گر خاموش رہے
ہم نے اپنی آہ دبا لی سینوں میں
جب حاکم اور چارہ گر خاموش رہے
جھوٹ اور سچ کا فرق بتائے کون یہاں
موند کے دیدے ، دیدہ ور خاموش رہے
دیکھ کے لچھن دین کے ٹھیکے داروں کے
بے دیں ، دروازے ڈھو کر خاموش رہے
لاکھوں اپنے دیس میں ہی پردیسی ہیں
باقی ہو کر ملک بدر خاموش رہے
خود تاریخ لکھے گا وقت مورّخ ہے
کیا غم ہے جو زید و بکر خاموش رہے
یاں مرگِ انبوہ بھی کھیل تماشا ہے
حُکم ہوا ہے نوحہ گر خاموش رہے
قدموں کا ہر نقش گواہی دیتا ہے
گرچہ سُونی راہ گذر خاموش رہے
ہے آواز خلق خُدا کا نقارہ
ناداں اس کو بھی سُن کر خاموش رہے
رب کی لاٹھی بھاری ہے پر بے آواز
پل میں توڑے لاکھوں سر خاموش رہے
اپنا رب رحمان ہے کیسے ممکن ہے؟
دیکھ کے یہ اندھیر نگر خاموش رہے
دنیا میں سقراط بھی تھے منصور بھی تھے
سچ سے سب کو آج حذر خاموش رہے
کون ہے ابراہیم جو کودے شعلوں میں
اپنے عہد میں سب آزر خاموش رہے
بے مہری کی برف جمی تھی جذبوں پر
کیا کیا نہ دیکھے منظر خاموش رہے
چوک میں ماں نے چاروں بچے بیچ دئیے
پڑھ کر قاری یہ بھی خبر خاموش رہے
کون لکھے گا نوحہ گُھپ اندھیرے کا
گر اس دور کے نغمہ گر خاموش رہے
ہم نے جبر کے موسم میں بھی شعر کہے
عرشی جب سارے شاعر خاموش رہے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






