خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
جب بات شروع کی ہمیشہ ہم نے شروع کی
ہم بولتے رہتے ہیں وہ خاموش رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ان کو یہ ڈر کہیں یہ شہرہ عام نہ ہو جائے
پر تولتا پنچھی کہیں بدنام نہ ہو جائے
وہ اس لئے سنی بھی ان سنی کئے دیتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حق تو ہے مگر مجھ سے ناراض نہیں ہوتے
میری خطاؤں کو بڑے آرام سے سہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حسرت ہے مجھ سے وہ کبھی تکرار بھی کریں
لیکن میری ہر بات پہ چپ چاپ ہی رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ خندہ جبیں، کم سخن وہ صاحب ادراک
سنتے ہیں میری بات پر اپنی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






