کبھی گھر بنا کے خوش ہوئے

Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahore

کبھی گھر بنا کے خوش ہوئے، کبھی گھر جلا کے خوش ہوئے
کبھی خوشیاں اداس کر گئیں، کبھی غم پا کے خوش ہوئے

کوئی ڈھنگ نہیں تھا رہنے کا ہمیں، نہ ہی کوئی ٹھکانہ تھا کبھی
اک نام ہی بس پہچان بنی تھی، سو نام مٹا کے خوش ہوئے

چہرے خود ہی مسکراتے ہیں، جب خوش کوئی ہوتا ہے یہاں
ہم تو سب سے الگ سے ہیں، ہم آنسو بہا کے خوش ہوئے

جب محفلیں بھری بھری سی تھیں، ہم اداس پھرتے رہتے تھے
یہ عجب ہی شوق رہا ہے اپنا، ہم محفلیں لٹا کے خوش ہوئے

جو تنگ کرے بے سبب تمہیں، اسے سزا دینا تو قانون ہے یہاں
ہمیں تنگ کیا بس خود نے ہی، ہم خود کو مٹا کے خوش ہوئے

یادیں ماضی کی تلخ بھی ہیں، یادیں ماضی کی سہانی بھی
کوئی یاد آیا تو کھل اٹھے، کسی کو بھلا کے خوش ہوئے

کبھی سو جائیں تو ٹوٹتا ہے بدن، ایسی پڑی ہے رت جگے کی عادت
بارش میں بھیگیں تو جلتا ہے جسم، ہم آگ میں نہا کے خوش ہوئے

شوق ہمارا زندہ ہے اب تک، کبھی کبھی بلا لیتے ہیں ان کو
وہ ہر بار جھٹلا کے خوش ہوئے، ہم ہر بار بلا کے خوش ہوئے

Rate it:
Views: 571
17 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL