خدا خیر کرے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiپھر سے محشر کی خبر ہے کہ خدا خیر کرے
بندہ نا دان بشر ہے کہ خدا خیر کرے
یاں تو پہلے ہی تنی چادر ظلمت تھی مگر
پھر سے آتی یہ کہر ہے کہ خدا خیر کرے
کتنی دقت سے یہاں امن ہوا تھا قائم
پھر سے دہشت کی لہر ہے کہ خدا خیر کرے
شب پرستوں نے یہاں ڈالے ہیں پھر سے ڈیرے
حق پرستو ں کا شہر ہے کہ خدا خیر کرے
پھر سے جلا دوں نے باندھا ہے نشانہ اس پر
زخمی پہلے ہی نگر ہے کہ خدا خیر کرے
پیار کے بول جو میٹھے تھے انہیں بھول گیا
پھر سے لفظوں میں زہر ہے کہ خدا خیر کرے
خوں بھری نظروں سے دیکھا تو لرز اٹھا ہوں
تیری آنکھوں میں قہر ہے کہ خدا خیر کرے
راز کی بات یہ خفیہ تھی مگر رہ نہ سکی
تیرے لہجے میں جہر ہے کہ خدا خیر کرے
کوئی سنتا ہی نہیں آج وفاء کے قصے
کتنا مشکل یہ دھر ہے کہ خدا خیر کرے
میں نے سن رکھا ہے آئیگی قیامت اس دن
آج پھر یوم شکر ہے کہ خدا خیر کرے
یوں نہ اترا یہ اجالے نہیں دائم تیرے
یہ تو مانگے کی سحر ہے کہ خدا خیر کرے
بیگناہ قتل کیے جس نے خدا کے بندے
اس کا انجام سقر ہے کہ خدا خیر کرئے
وہ لٹیرا جو کہ بدنام زمانہ اسکی
اب میرے گھر پہ نظر ہے کہ خدا خیر کرے
میں نے ہر زخم کو ہنس کر ہی سہا تھا کل تک
اب جو ٹوٹا یہ صبر ہے کہ خدا خیر کرے
کل بھی لڑتا رہا تنہا یہاں فر عونوں سے
آج بھی وہ ہی ڈگر ہے کہ خدا خیر کرے
چھوڑ جاتا ہوں تمہیں رب کی اماں میں دیکر
اب میرا ر خت سفر ہے کہ خدا خیر کرے
موت سے ڈرتا نہیں ظلم کے آگے اشہر
پھر سے اب سینہ سپر ہے کہ خدا خیر کرے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا







