خدا کی کون سی ہے راہ بہتر جانتا ہے
Poet: امت احد By: راحیل, Karachiخدا کی کون سی ہے راہ بہتر جانتا ہے
مزہ ہے نیکیوں میں کیا قلندر جانتا ہے
بہت ہمدرد ہیں میرے مگر انجان ہیں سب
مرے زخموں کی حالت کو رفوگر جانتا ہے
کسی سے میں نہیں کہتا مگر میری غریبی
مری دیواروں کا اکھڑا پلستر جانتا ہے
کبھی مندر کبھی مسجد پہ ہے اس کا بسیرا
دھرم انسانیت کا بس کبوتر جانتا ہے
صنم تیری جدائی میں کٹا ہے وقت مشکل
گنے دن ہجر میں کتنے کلنڈر جانتا ہے
کہیں بھر پیٹ روٹی تو کہیں سے ہاتھ خالی
کسی کی کیسی ہے نیت گداگر جانتا ہے
میں پیاسا رہ کے بھی منت نہیں کرتا کسی کی
بہت خوددار ہوں میں یہ سمندر جانتا ہے
کسی بھی وقت یہ مظلوم کر دیں گے بغاوت
ستم کی ہو چکی ہے حد ستم گر جانتا ہے
رہیں ارتھی سے باہر ہاتھ اس کا قول ہے یہ
نہ کچھ بھی ساتھ جائے گا سکندر جانتا ہے
تمہاری یاد میں راتیں کٹی ہیں مشکلوں سے
رہا ہوں کتنا میں بے چین بستر جانتا ہے
نہ ہوگا دوسرا پیدا جہاں میں کوئی گاندھی
بہت اچھی طرح سے پوربندر جانتا ہے
یہاں ہے بھیڑ میں بھی کس قدر ہر شخص تنہا
تمہارے شہر کا ہر ایک منظر جانتا ہے
احدؔ جینے کو تو سب جی رہے ہیں اس جہاں میں
مگر اس زیست کا مطلب سخنور جانتا ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






