خوابوں سے آج کل وہ گزر تو نہیں رہا
Poet: عدیل جالندھری By: عدیل جالندھری , Rahim Yar Khanخوابوں سے آج کل وہ گزر تو نہیں رہا
اس کا خیال دل سے اتر تو نہیں رہا
یوں مت بگاڑیے میرے طرز عمل کو آپ
ویسے ہی میں خاموش ہوں ڈر تو نہیں رہا
کیسا گھڑا ہے جس میں کوئی چھید بھی نہیں
میں کب سے بھر رہا ہوں یہ بھر تو نہیں رہا
تو رہ رہا ہے شوق سے خوش فہمیوں میں رہ
میں جی رہا ہوں بن تیرے مر تو نہیں رہا
سب مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ گھر جاؤ اب عدیل
گھر جاؤں کس طرح میں مرا گھر تو نہیں رہا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






