خواہش جیسے افریقہ کی بیٹیاں جنگ آزادی میں سر باندھے کفن
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIخواہش جیسے افریقہ کی بیٹیاں جنگ آزادی میں سر باندھے کفن
حلقئہ نور میں آگے بڑھتے ہوئے دھوپ کو چھیڑتے آبنوسی بدن
ان ہواؤں سے موسم بدلنے لگا، دھوپ میں پیار کی نرم چمکار ہے چبھن
پھر کبوتر کے جوڑوں کے دل میں چبھی تنکے چن چن کے لانے کی فطری چبھن
شہر و صحرا کی تقسیم ممکن نہیں، اک قوت ہے جس کے بہت روپ ہیں
ان پہاڑوں میں بھی پیار کا ظلم ہے، ان مشینوں میں بھی ظلم کا پیار پن
مرنے والے مصور کے تکیے تلے اک کاغذ ملا جس پہ یہ درج تھا
روشنی کے لباسوں میں لپٹا ہوا آئینہ خانے میں خوشبوؤں کا بدن
اونچے گرجا گھروں میں گھرے نوجواں راہبوں کے دلوں میں دبی خواپش
جیسے بیروت کی ساحلی ریت پر دھوپ کھاتی ہوئی لڑکیوں کے بدن
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






