میری یادوں کی اک اک گلی میرے خوابوں کے سارے مکاں سو گئے

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

میری یادوں کی اک اک گلی میرے خوابوں کے سارے مکاں سو گئے
دل شب تار کی سلطنت ہو گیا جب سے اشکوں کے شہزادگاں سو گئے

پتھروں کی زمیں پتھروں کے شجر، پتھروں کے مکاں پتھروں کے بشر
کب سویرا ہوا ہم کدھر کو چلے، کس گلی شام آئی کہاں کھو گئے

کیا ہوا آج کیوں خیمئہ زخم سے کج کللاہ سے غم پھر نکلنے لگے
ہم تو سمجھے تھے اب شہر دل مٹ چکا تھک گئے درد کے کارواں سو گئے

اس کی امید پہ دل کی تمناؤں نے روشنی کے گھروندے بنائے
اک وہ کیا گیا سب دیئے بجھ گئے آرزوؤں کے سارے مکاں جل گئے

نفرتوں کے الاؤ میں جلتے بدن زیست کی دو پیرہن میں سلگتے چمن
عہد دانش کے مارے یہ انساں نما پیار کی چھاؤں پائی جہاں سو گئے

عقل کی لشکری آہنی اجنبی آہٹیں جیسے پتھرا گئی خوشبوؤں کی دوکان
دل کے بازار میں خاک اُڑنے لگی، ڈر کے یادوں کے سوداگراں سو گئے

آج کی رات اتنی اندھیری ہے کیوں، آج اتنی اکیلی ہے کیوں
جو سر شام ہم کو جگا آئے تھے اک آواز دے کر کہاں کھو گئے

Rate it:
Views: 441
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL