میری یادوں کی اک اک گلی میرے خوابوں کے سارے مکاں سو گئے
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIمیری یادوں کی اک اک گلی میرے خوابوں کے سارے مکاں سو گئے
دل شب تار کی سلطنت ہو گیا جب سے اشکوں کے شہزادگاں سو گئے
پتھروں کی زمیں پتھروں کے شجر، پتھروں کے مکاں پتھروں کے بشر
کب سویرا ہوا ہم کدھر کو چلے، کس گلی شام آئی کہاں کھو گئے
کیا ہوا آج کیوں خیمئہ زخم سے کج کللاہ سے غم پھر نکلنے لگے
ہم تو سمجھے تھے اب شہر دل مٹ چکا تھک گئے درد کے کارواں سو گئے
اس کی امید پہ دل کی تمناؤں نے روشنی کے گھروندے بنائے
اک وہ کیا گیا سب دیئے بجھ گئے آرزوؤں کے سارے مکاں جل گئے
نفرتوں کے الاؤ میں جلتے بدن زیست کی دو پیرہن میں سلگتے چمن
عہد دانش کے مارے یہ انساں نما پیار کی چھاؤں پائی جہاں سو گئے
عقل کی لشکری آہنی اجنبی آہٹیں جیسے پتھرا گئی خوشبوؤں کی دوکان
دل کے بازار میں خاک اُڑنے لگی، ڈر کے یادوں کے سوداگراں سو گئے
آج کی رات اتنی اندھیری ہے کیوں، آج اتنی اکیلی ہے کیوں
جو سر شام ہم کو جگا آئے تھے اک آواز دے کر کہاں کھو گئے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






