خود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
Poet: Hooba By: Hooba, attockخود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
ابھی بجھنے بھی نہیں پاتی آگ پھر سے لگا دیتے ہو
پیار ہے تمہیں غیروں سے، غیروں سے ہے پیار تمہیں
پیار کرتے ہو غیروں سے اور اپنوں کو دغا دیتے ہو
ہو رکھتے یاد اوروں کو، اوروں کو یاد رکھتے ہو
یاد رکھتے ہو اوروں کو اور اپنوں کو بھلا دیتے ہو
ہم ترستے ہیں اک دیدار کو، اک دیدار کو ترستے ہیں ہم
ہمیں تڑپاتے ہو دیدار کو ہائے کتنا جینے کا مزا دیتے ہو
رکھتے ہو خوش رقیبوں کو، رقیبوں کو خوش رکھتے ہو
نکلتے ہو محفل سے رقیبوں کی دل اپنوں کا جلا دیتے ہو
رکھتے ہو دور دور ہم کو، ہم کو دور دور رکھتے ہو
دور کرتے ہو پہلے خود ہی پھر خود ہی بلا دیتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت کے، محبت کے چراغ جلاتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت خود ہی پھر خود ہی ہوا دیتے ہو
مجھے کرتے پھرتے ہو بدنام، بدنام کرتے پھرتے ہو مجھے
مجھے کرتے ہو بدنام زمانے میں یہ محبت کی جزا دیتے ہو
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






