خوشیاں روٹھ گئیں
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, islamabadہر ساعت انمول تھی جاناں بیتے دن لوٹائے کون
خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں اپنا دل بہلائے کون
ہنسنا کھیلنا باتیں کرنا جیسے کوئی سپنا تھا
وہ بھی چھوڑ چلا ہے آخر جو ہمارا اپنا تھا
جینے کی اک آس تھی باقی یہ انکو بتلائے کون
خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں اپنا دل بہلائے کون
آنیوالے رستوں کو میں یونہی دیکھتا رہتا ہوں
روزانہ جب شام ڈھلے تو اپنے دل سے کہتا ہوں
اس دنیا میں کون ہے تیرا تیرے گھر کو آئے کون
خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں اپنا دل بہلائے کون
تنہائی میں گم سم رہنا دور دراز خیالوں میں
ہر پل یونہی بکھرے رہنا الجھے ہوئے سوالوں میں
وقت بدلتا رہتا ہے پر ضیاء کو یہ سمجھائے کون
خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں ہیں اپنا دل بہلائے کون
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






