دامنگیر کرنا پڑ رہا ہے

Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, Quetta

محل دل کا جو پھر تعمیر کرنا پڑ رہا ہے
نجانے کیا کو، کیا تعبیر کرنا پڑ رہا ہے

بہت مشہور تھے ہم دوستوں میں عدل والے
سو اپنے آپ کو تعزیر کرنا پڑ رہا ہے

تصرف ہم کو پہلے بھی تھا گرچہ اس جہاں پر
مگر اب تو اسے تسخیر کرنا پڑ رہا ہے

کسی کی آنکھ ہم کو قید خانہ کرنا ٹھہری
گھنی زلفوں کو ہی زنجیر کرنا پڑ رہا ہے

ہمارے زخم بھرنے میں نہ آئے ہیں تو ناچار
محبت کو ابھی تاثیر کرنا پڑ رہا ہے

دکھوں میں بھی ہمیں ہنستا ہؤا دیکھا گیا تو
نیا اک روگ دامن گیر کرنا پڑ رہا ہے

بہت دن چپ رہے ہم، لوگ سمجھیں گے اشارہ
زباں کو اب مگر شمشیر کرنا پڑ رہا ہے

مری آنکھوں کے حلقے ضد پہ اپنی اڑ گئے ہیں
تصوّر کو ابھی تصویر کرنا پڑ رہا ہے

کسے مانگا تھا حسرتؔ کون آیا دوڑے دوڑے
اُسے قسمت، اٖسے تقدیر کرنا پڑ رہا ہے

Rate it:
Views: 1
08 Sep, 2026
More Sad Poetry