دل تمہاری یاد میں پہلے کبھی رویا نہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدل تمہاری یاد میں پہلے کبھی رویا نہیں
ریزہ ریزہ ٹوٹ کر ایسے کبھی بکھرا نہیں
زندگانی گر مکافاتِ عمل کا نام ہے
کاٹتی کیوں پھر رہی ہوں جو کبھی بویا نہیں
آ رہا ہے پیار اُس کی اِس ادا پر ٹوٹ کر
شب کا تارہ رات بھر میرے لیۓ سویا نہیں
لے گئے حالات تجھ کو دور مجھ سے چھین کر
میں نے دانستہ تو میری جاں تجھے کھویا نہیں
رفتہ رفتہ ایک دن یہ مندمل ہو جائے گا
زخم گہرا ہے مگر اتنا بھی تو گہرا نہیں
سامنے میرے رقیبوں کو لئے پھرتا ہے جو
بیوفائی سے بھی اُس کی دل میرا ٹوٹا نہیں
اور بھی تیری طرح سے ہیں شکستہ پا کئی
ایک تو ہی زندگی کی راہ میں تنہا نہیں
کس طرح جانے کٹے گا یہ کڑا لمبا سفر
دھوپ کتنی تیز ہے اور سر پہ بھی سایا نہیں
جو سدا چلتا رہا خوابوں میں میرے ساتھ ساتھ
سامنے آیا تو اک لمحے کو بھی ٹھہرا نہیں
ہو رہا ہے جو اسی پر ہم تو رکھتے ہیں نظر
آگے کیا ہونا ہے ہم نے یہ کبھی سوچا نہ نہیں
ہے بہت آساں ترے قاتل کو اب پہچاننا
اس نے اپنی آستیں سے خوں ابھی دھویا نہیں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







