دو لاین والی شاعری
Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham(١٣)
مدت سے میں نے تو کوئی خواب نہیں دیکھا
تم میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دو ک نیند آۓ
(١۴)
غرضِ ہستی میں تو بے چینی مقدر ہو گی
درد سینے میں کوئی غیر سجا کر دیکھو
(١۵)
ایک شام کی دہلیز پر بیھٹے رہے ساتھ وہ دیر تک
آنکھوں سے کی باتیں بہت منہ سے کہا کچھ بھی
(١٦)
بہت دھوکہ دیتے ہیں محبت میں سوچ کر کرنا
یہاں جن لوگوں نے چہرے بہت سنوار رکھے ہیں
(١٧)
تجھے مل جائے گی فرصت اور مل جائے گر جب فرصت
پھر لوٹ آنا تم یادوں کے ساحل پر میں اکیلا ہی بیٹھا ہوں
(١٨)
بند کرو یہ شعروشاعری، بند کرو یہ چُبھتے ھوئے الفاظ
صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ تُمہیں عشق ہے
(١٩)
اور ایک پیاس ہمشہ ادھوری رہ جاتی ہے
جب بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتیں ہیں
(٢٠)
میں اپنی بے چین خواہش کو ایک تصویر بنادیتا ہوں
ہر لمحہ تمہاری یاد کو اپنی زندگی بنادیتا ہوں
(٢١)
میرے ہاتھ مٹی کے بدن کو سانچوں میں ڈھال رہے تھے
اس کے وجود کو میں نے کتنی ہی تصویروں میں دیکھا
(٢٢)
آج تمہاری یاد میں جاناں آکر دیکھو دیکھ لو آ کر
میرے نینوں کی رم جھم سے بھیگ رہی ہے بارش بھی
(٢٣)
جو نہ مل سکا وہ تو قسمت کی بات ہے
جو مل گیا زندگی میں وہ میرا نصیب ہے
(٢۴)
میں اب کے لوٹا تو صدیوں کی عمر لاؤں گا
که تیرے ساتھ مجھے مختصر نہیں رہنا
(٢۵)
اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا،وہاں تک چھوڑ آیا ہوں
(٢٦)
شاید یہ تازہ تازہ جدائی کا تھا اثر
ہر شکل یک بیک تیری صورت سی ہو گئی
(٢٧)
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ
ﯾﮧ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺣﻤﺎﻗﺖ ﮨﮯ
(٢٨)
یہی بہت ہے کہ دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے
کسی کے ساتھ سہی وہ نظر تو آیا ہے
(٢٩)
بس ایک معافی ، ہماری توبہ کبھی جو ایسے ستائیں تم کو
لو ہاتھ جوڑے ، لو کان پکڑے ، اب اور کیسے منائیں تم کو
(٣٠)
ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺮﺯﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ
ﮬﻤﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﭼﻠﻨﺎ ﺁ ﮔﯿﺎ ﻧﺎ
(٣١)
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗُﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ
(٣٢)
ﻓﻠﮏ ﭘﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﺭﻭﺷﻦ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﺟﻮ ﮨﻢ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ
(٣٣)
ﻟﻮﭦ ﺁﺅ ﮐﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ
اب ﭼﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﮐﺜﺮ
(٣۴)
جتنا میں اپنے پاس تھا، اتنا میں اپنے پاس ہوں
باقی کا اس سے پوچھیے، اس نے مجھے کہاں کیا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






