دینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreدینا نہیں کسی کو ، توڑنہ دے کہیں کوئی بے قدری سے اسے
مجھے ہی دے دو ،دینا تو ہے تم کو اک دن کسی کو اسے
نہ جان نہ پہچان، کیا پتہ تم ہو بے ایمان کیسے تمھیں دے دوں اسے
دل تو یونہی دیے جاتے ہیں، کون چوٹ لگاگیا ،بعد میں پتہ چلتا ہے اسے
کیا لڑکیوں کی طرح کر رہے ہو باتیں ،نازک بڑا ہے چوٹ نہ لگانا اسے
بڑے نخرے اٹھائے ہیں اس کے بڑے نازوں سے پالا ہے میں نے اسے
ٹوٹنا تو مقدرہے اس کا ، غیر نہ سہی کوئی اپنا چکنا چور کر جائے گا اسے
قریبی رشتہ دار کی چو ٹ تو سہ جاتا ہے ، بس محبت کا روگ مار دیتا ہے اسے
کسی کو دینا ہی نہی ہے میں نے ،بس اپنے ہی پاس رکھنا ہے اسے
میں بڑے پیار سے سنبھال کر رکھوں گی اسے ،مجھے ہی دے دو اسے
تم کیا سنبھال کے رکھو گی ، ہمیشہ سے نہ بھرنے والا زخم محبوب ہی دے جاتا ہے اسے
مجھ جیسا ملے گا نہی سوچ لو ، پھر نہ پچھتانا ، کسی کا تو ہو ہی جانا ہے اسے
زیادہ عرصے پاس تمھارے رہے گا نہی ،چوٹ کھانے میں مزہ آتا ہے اسے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






