بچھڑگئے اگر ہم ،تو روئیں گے نہیں

Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahore

بچھڑگئے اگر ہم ،تو روئیں گے نہیں
پتہ ہے جب یہ کہ پیار کرنے والے اکژ ملتے نہیں
پیار کرنے والے بھی
ؑعجیب لوگ ہوتے ہیں ، ملنے سے پہلے
بچھڑنے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں
ابھی چند دن ہوئے ملے ہوئے
اور ابھی ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانا بھی نہیں
کہ شروح کر دی آہیں بھرنی
بچھڑے اگر ہم تو تم بن جی نہ سکیں گے
کسی اور کے ہو نہ سکیں گے
مجھے چھوڑ کے نہ جانا ، مر جاؤں گی تمھارے بنا
تم چھوڑ گئی اگر مجھے ، تو جی نہ سکوں گا تمھارے بنا
کوئی پوچھے ان احمقوں سے کہ
ابھی ملنے کا لطف تو اُٹھا لو ، مل کے گھوم لو گا لو
مزے اُڑا لو ،قسمت میں کیا پتہ اگے ، ہنسنا ہے یا رونا
یہ پیار بھرا زمانہ تو موج مستی میں گزارو
کیا پتہ کسی کو کہ انے والی زندگی میں
کسی کا پیار ملنا ہے کہ نہیں
مل گیا ہے آج اگر تمھیں کسی کا پیار
تو یہ زمانہ تو ہنسی خوشی گزارو
نہ کہ یے زمانہ بھی بچھڑنے کے خوف سے رو کر اُداس ہو کر گزارو
اور پھر وقت اپنی چال چل گیا اور دونوں کو جدا کر گیا
بچھڑ گئے ہو چلو اب ،رو ، روکر ساری عمر گزارو
 

Rate it:
Views: 707
15 Jun, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL